Friday, March 20, 2009

انتظار کي فضيت اورمنتظر کا مقام


ہم اس وقت آپ(عجل اللہ فرجہ الشريف) انتظار ميں ہيں اور يہ انتظار حضرت مہدي عليہ السلام کي آمد اور ان کي حکومت حق کا ہے روايات ميں انتظار فرج کے بارے ميں کئي احاديث وارد ہوئي ہيں اور حضرت مہدي عليہ السلام کے منتظرين کا بہت مرتبہ بيان کياگياہے پيغمبر خدا صلي اللہ عليہ وآلہ کا ارشاد گرامي ہے “ميري امت کي بہترين عبادت انتظار فرج ہے اور امام صادق عليہ السلام نے ارشاد فرمايا: ہمارے امر (حکومت) کا منتظر اس شخص کي مانند ہے جو راہ خدا ميں اپنے خون ميں غلطان ہے۔
بےشک “انتظار ”وہ حقيقت ہے جس کے کچھ آثار اور لوازمات ہيں اور منتظر کي اپني کچھ ذمہ دارياں اوروظائف ہيں انتظار فرج کا مطلب ايک تابناک مستقبل کے لئے اميدوار ہونا ہے جو منتظر کي زندگي کو چار چاند اورنشاط بخشتاہے۔اور اسے مايوسي کي حالت اور نا اميدي سے خارج کرديتاہے۔ قائد انقلاب اسلامي آيۃ اللہ خامنہ اي نے فرمايا: موجود کيفيت پرراضي نہ ہونا اور نيک اعمال کي انجام دہي کے ذريعہ بھر پور جدو جہد کرنا انتظار کا ايک اہم پہلو ہے۔
اگر دنيا کو کسي خورشيد نے آکر نوراني کرنا ہے توآيا اس نوراني آفتاب کي آمد سے پہلے ہم تاريکي ميں بيٹھے رہيں؟ يا ضروري ہے کہ کوئي قدم اٹھائيں اور کوئي چراغ روشن کريں؟
لہذا جو شخص ظہور کا حقيقي منتظر ہے وہ ظہور امام کے لئے ضروري تياري بھي کرتاہے تاکہ ان کي آمد کا پيش خيمہ بن سکے۔
وہ خود سازي اخلاقي کي مدت اور معنويت و ايمان کي تقويت کے ذريعہ آنحضرت کي نصرت کے لئے خود کو تيار کرتاہے اور امر بالمعروف اور نہي المنکر کے ذريعہ ہميشہ ثقافتي انداز سے افراد کو تيار کرتا ہے۔ اوردوسروں کي تربيت کے لئے کوشاں رہتاہے۔
لہذا منتظر نہ تو اپني بابت بلا تکليف ہے اورنہ ہي اپنے ماحول کي بابت اپني ذمہ داريوں سے غافل ہے ايسا شخص ہميشہ اپنے امام کے اھداف کو آگے بڑھاتا ہے اور اپني توانائيوں کو اسي سمت خرچ کرتاہے لہذا يہ وہ فرد ہے جس کي حيثيت اورمقصد واضح ہے۔
البتہ اس کے بالمقابل دشمن ہميشہ اپنے اہداف تک رسائي کے لئے مايوسي اور نااميدي کي فضا قائم کرنا چاہتاہے اور اقوام کے درميان وہ ہر اس چيز سے بر سرپيکار ہوتاہے جو مؤمن کو اميد ديتي ہو۔ اورچونکہ امام مہدي عليہ السلام کا عقيدہ اور “انتظار فرج” اميدوار حرکت کے لئے بنيادي سبب ہے لہذا دشمن مختلف انداز سے اس کا مقابلہ کرتاہے کبھي وہ مہدويت کا انکار کرتاہے تو کبھي تحريف اورخرافات ايجاد کرتاہے تاکہ اس اہم اسلامي اورالہي عقيدہ کو خراب کرسکے۔
قائد انقلاب اسلامي آيۃ اللہ خامنہ اي اس بارے ميں فرماتے ہيں: “آج استکباري طاقتوں کے سياستدان اورمفکرين اس چيز کو اپنا اہم مقصد سمجھتے ہيں کہ اقوام عالم کے درميان مايوسي اور نا اميدي کي فضا ايجاد کريں اور ان کي کوشش ہے کہ اقوام کو يہ بات باور کرواديں کہ ان کي تہذيب٬ عقايد اور ان کي مذہبي و قومي حيثيت ان کے لئے کارساز نہيں ہے جبکہ اس کے مقابلے ميں انتظار فرج کا نظريہ آسودگي ٬ اميدواري اورتحرک کي دعوت ديتاہے۔ اور آنحضرت کي حرکت جس سمت بھي ہوگي ان کے پيروکاروں کي بھي اس سمت حرکت ہوني چاہئے۔
لہذا انتظار حضرت مہدي عليہ السلام کے نقش قدم پر چلنے کانام ہے اور منتظر وہ ہے جو ہميشہ ظلم و ستم اور ناانصافي کے خلاف سربکف ہے۔ اور اپنے آپ کو بے راہ روي سے دور رکھے ٬ کيونکہ وہ ايسے امام٬ کا منتظر ہے کہ جس کے قيام کي وجہ سے پوري دنيا کو عدل و انصاف ملے گا اور وہ اس جہان کو ہر قسم کے ظلم و ستم سے پاک کرديں گے۔