
Thursday, February 26, 2009
تعصب اور تحریف

Wednesday, February 25, 2009
عاشورا اور انتظار

کہ ہم اپنے وجود میں اللہی انقلاب لاییں
یہ ہم میں ہر ایک کی شخصیت انقلاب اس عالمی انقلاب کا پیش خیمہ ہے
کہ جو امام زمانہ کی قیادت میں برپا ہوگا
یہ انقلاب کیا ہے؟ اللہ رسول اہلیبیت پر مستحکم ایمان اور
ایسا صالح عمل کہ جو صرف انکی مرضی کے مطابق ہو
کاش وہ وقت آجایے کہ ہم میں وہ حسینی مہدوی خوشبو
پیدا ہو اور ہم گلستان مہدی میںاسطرح اکھٹے ہوں جسطرح
کربل کے خونی باغ میں گل زہراء کے پاس بہتر پھول اکھٹے تھے
Tuesday, February 24, 2009
عقیدہ مہدویت تمام مذاہب میں

مہدویت یعنی ایک عالمی نجات دھندہ کا تصور اس وقت سے ہے جب کہ اسلام نہیں آیا تھا اوریہ تصور صرف اسلام میں محدود نہیں ہے ، ہاں اس کی تفصیلی علامتوں کی اسلام نے اس طرح حدبندی کی ہے کہ وہ ان آرزووں کو مکمل طور پر پورا کرتی ہے ، جو دینی تاریخ کی ابتداءہی سے عقیدہ مہدویت سے وابستہ کی گئی ہیں ، جوتاریخ کے مظلوموں اور دبے ہوئے انسانوں کے احساسات کو ابھارنے کے لئے ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام نے غیب پرایمان وعقیدے کو واقعیت میں بدل دیا ہے اوراسے مستقبل سے حال میں پہنچادیا ہے اور مستقبل بعید کے نجات دہندہ کو موجودہ نجات دہندہ پر ایمان میں بدل دیا ہے (بحوث حول المہدی ، ص ۳۱ باقر الصد (رح) تھوڑا لفظی رد وبدل کے ساتھ )۔
مختصر یہ کہ عقیدہ مہدویت سارے مذاہب وادیان اور ملتوں میں موجود ہے اوروہ ایسے ہی
طاقتورغیبی موعود کے انتظار میں زندگی بسر کرتے ہیں البتہ ہر مذہب والے اسے مخصوص نام سے پہچانتے ہیں ۔
مثال کے طور پر ہندوں کے مذہبی رہنما ” شاکونی“ کی کتاب سے نقل ہوا ہے کہ ” دنیا کا خاتمہ سید خلایق دو جہاں ” کِش “ [پیامبر اسلام ]ہوگا جس کے نام ستادہ [ موعود] خدا شناس ہے۔
اسی طرح ہندوں کی کتاب ” وید“ میں لکھا ہے ” جب دنیا خراب ہو جائے گی تو ایک بادشاہ جس کا نام ” منصور “ ہے آخری زمانے میں پیدا ہوگا اورعالم بشریت کا رہبر وپیشوا ہوگا۔اوریہ وہ ہستی ہے جو تمام دنیا والوں کو اپنے دین پر لائے گا۔
اورہندوں ہی کی ایک اور کتاب ” باسک “ میں لکھا ہے ” آخری زمانے میں دین ومذہب کی قیادت ایک عادل بادشاہ پر ختم ہوگی جو جن وانس اور فرشتوں کا پیشوا ہوگا، اسی طرح ” کتاب پاتیکل“ میں آیا ہے جب دنیا اپنے آخری زمان کو پہنچے تو یہ پرانی دنیا نئی دنیامیں تبدیل ہوجائے گی اوراس کے مالک دو پیشواوں ” ناموس آخرالزمان [ حضرت محمد مصطفی اور ” پشن[ علی بن ابی طالب ] کے فرزندہوں گے جس کا نام راہنما ہوگا۔(۔ستارگان درخشان ، ج۴۱، ص ۲۳۔)
اوریہی ہے جیسے زردتش مذہب میں اسے ” سوشیانس“ یعنی دنیا کو نجات دلانے والا ، یہودی اسے ” سرور میکائلی “ یا ” ماشع“ عیسائی اسے ” مسیح موعود“ اور مسلمان انہیں ” مہدی موعود(عج) “ کے نام سے پہچانتے ہیں لیکن ہر قوم یہ کہتی ہے کہ وہ غیبی مصلح ہم میں سے ہوگا۔
اسلام میں اس کی بھر پور طریقے سے شناخت موجود ہے ، جب کہ دیگر مذاہب نے اس کی کامل شناخت نہیں کرائی ۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ اس دنیا کو نجات دینے والے کی جو علامتیں اور مشخصات دیگر مذاہب میں بیان ہوئے ہیں وہ اسلام کے مہدی موعود(عج) یعنی امام حسن عسکری (علیہ السلام) کے فرزند پر منطبق ہوتے ہیں ۔
( آفتاب عدالت ، ابراہیم امینی ، مترجم نثار احمد خان زینپوری ، ص ۳۸ ، ۴۸۔)
مختصر یہ کہ ایک غیر معمولی عالمی نجات دہندہ کے ظہور کا عقیدہ تمام ادیان ومذاہب کا مشترکہ عقیدہ ہے جس کا سرچشمہ وحی ہے اورتمام انبیاء نے اس کی بشارت دی ہے ساری قومیں اس کی انتظار میں ہیں لیکن اس مطابقت میں اختلاف ہے
زمین کا وارث

تمام انبیاء کی ان پر آنے والی غیبتوں کے حوالے سے سنتیں ہمارے اہل بیت کے قائم کے حصے میں بھی اسی طرح ہوں گی۔
تو ابو بصیر کہتا ہے کہ میں نے عرض کیا: اے فرزند رسول خدا آپ اہل بیت میں کون قائم ہے؟
آپ(ع) نے فرمایا: میرے فرزند موسی کا پانچواں (نسل کے اعتبار سے) فرزند اور وہ کنیزوں کی سردار کا فرزند ہوگا اور لوگوں کی نظروں سے غائب ہوجائے گا، غیبت اس قدر طولانی ہوگی کہ اھل باطل شک و شبہ میں پڑ جائیں گے پھر اللہ تعالی اسے ظاھر کرے گا اور اس کے دست مبارک پر مشرق و مغرب فتح کرے گا اور حضرت عیسیٰ بن مریم آسمان سے نازل ہوں گے اور اس کی اقتدا میں نماز پڑھیں گے اور زمین اللہ تعالی کے نور سے منور ہوگی اور زمین پر کوئی ایسا گھر نہ ہوگا کہ جہاں غیر اللہ کی عبادت ہو صرف اللہ کی عبادت ہوگی اور تمام کا تمام دین اللہ کے لئے ہوگا اگرچہ مشرکین پسند نہ کریں
اسلامي ذرايع ابلاغ کي پاکستان ميں شيعہ مسلمانوں کے وحشتناک قتل عام پر عدم توجہ

شيعہ نيوز سا ئٹ کے مطابق غزہ کے مظلوم مسلمانوں پر صيھونستي يلغار ديگر عالمي ذرايع ابلاغ کي طرح ايران ميں اخبارات ،ريڈيو اور ٹي وي کي اہم ترين خبروں ميں شمار ہوتي ہے۔اور ہر لمحہ لمحہ کي خبر نشر ہو رہي ہے۔ليکن ہمسايہ اسلامي ملک پاکستان ميں کافي عرصہ سے خارجي صفت وحشي طالبان کے ہاتھوں شيعہ نسل کشي بالخصوص پاراچنار ميں شيعوں اور محبان اہل بيت کے بےرحمانہ اور وحشتناک قتل عام اور ان کے ہاتھ پاوں کاٹنے اور ذبح کرنے کے واقعات پر عالمي۔اسلامي ذرايع ابلاغ کا سرد رويّہ اور بالخصوص شيعہ اسلامي ملک ايران کا سکوت کيا معني رکھتا ہے؟ درحالانکہ پاکستان ،افغانستان اور عراق کے مظلوم شيعہ عظيم شيعہ ايران کے علاوہ کويي اور پشت پناہ نہيں رکھتے۔ايک طويل مدت کے محاصرے ميں گھرے ہويے۔فقر اور اقتصادي بحران،ہر لمحہ جان کے خوف ميں يہ عظيم باحوصلہ مسلمان ايران سے صرف يہ توقع تو رکھ سکتے ہپيں کہ اگر مملکت ايران انکي مادي معنوي مدد نہيں کرسکتي، پاکستاني گورمنٹ سے احتجاج نہيں کرسکتي تو کم از کم ميڈيا ميں ديگر مظلوم مسلمانوں کي مانند انکا بھي ذکر کيا جايے۔
