Wednesday, April 15, 2009

زمین حجت خدا سے خالی نہیں


سلیمان بن جعفر حمیری کہتے ہیں سئلت الرضا علیہ السلام فقلت تخلوا الارض من حجۃ فقال علیہ السلام لو خلت الارض طرفۃ عین من حجۃ لساخت باھلھا .عیون اخبار الرضا ج۱ ص ۲۷۲

راوی کہتا ہے کہ میں نے امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا آیا زمین حجت خدا کے بغیر رہ سکتی ہے تو امام علیہ السلام فرماتے ہیں :اگر زمین پلک جھپکنے کے عرصہ کے برابر حجت خدا سے خالی رہ جائے تو وہ اپنے اوپر سب رہنے والوں کو نگل لے گی۔
حدیث کے راوی سلیمان بن جعفر حمیری جناب عبد اللہ بن جعفر طیار کی نسل مبارک سے تعلق رکھتے ہیں اپنے زمانہ کے اعلی پائے کے مصنف ، محدث اور ثقہ تھے، شیخ طوسی علیہ الرحمہ نے انہیں حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام اور حضرت امام رضا علیہ السلام کے اصحاب میں سے شمار کیا ہے، یہ حدیث اور بھی راویوں سے نقل ہوئی ہے اگرچہ الفاظ میں کچھ حد تک اختلاف ہے لیکن معنی اور مضمون کے اعتبار سے یہی معنی دے رہی ہے، البتہ یہ توجہ رہے کہ ہمیں اپنے عقائد اور تاریخ کے مسائل میں فورا فیصلہ نہیں کرنا چاہئے بلکہ تامل اور دقت کے ساتھ ان پر توجہ دینی چاہئے اب اسی مطلب کے حوالے سے ہمیں پہلے غور کرنا چاہئے کہ تخلیق اور مخلوقات کی بقا یا فنا کی کلید پروردگار کے ہاتھ میں ہے ، کائنات کا نظام اس خالق حکیم کے ازلی و ابدی ارادے کے تحت چل رہا ہے جب تک اس قادر مطلق کی منشا مرضی ہے اس کرہ خاکی پر حیات ہے اور مخلوقات اور پروردگار کے درمیان حجت خدا کا پرفیض وجود بھی ہے اور اگر کسی لمحہ یہ وجود مبارک حجت زمین پر نہ رہے تو یہ سمجھ لیا جائے کہ اس خالق مطلق کی منشاء یہ ہے کہ اس کرہ خاکی پر اب حیات نہ رہے۔

Saturday, April 4, 2009

امام ابومحمد حسن عسکری علیہ السلام کی ولادت باسعادت



امام حسن عسکری علیہ السلام کی زندگی کا مختصر جائزہ حضرت امام حسن عسکری (ع) آٹھ ربیع الثانی 232 ہجری بروز جمعہ مدینہ میں پیدا ہوئے آپ آسمان امامت و ولایت اور خاندان وحی و نبوت کے گیارہويںچشم و چراغ ہیں حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کا مقابلہ بھی اپنے اجداد طاہرین کی طرح اس وقت کے ظالم و جابر و غاصب وعیار و مکار عباسی خلفا سے تھا ۔ آپ کی مثال اس دور میں ایسی ہی تھی جس طرح ظلم و استبداد کی سیاہ آنداھیوں میں ایک روشن چراغ کی ہوتی ہے ۔ آپ مہتدیوں اور معتمدوں کی دروغگوئی ، فریب ، سرکشی کے دور میں گم گشتہ افراد کی ہدایت کرتے رہے ۔ آپ کی امامت کے دور میں عباسی خلفاء کے ظلم و استبداد کے محلوں کو گرانے کے بہت سے اہم اور تاریخی واقعات رونما ہوئے جو براہ راست امام (ع) کی ہدایات پر مبنی تھے ان میں سے مصر میں احمد بن طولون کی حکومت کا قیام ، بنی عباس کے ظلم و ستم کے خلاف حسن بن زید علوی کی درخشاں خونچکان تحریک اور آخر کار حسن بن زید کے ہاتھوں طبرستان کی فتح اور صاحب الزنج کا عظیم جشن اس دور کے اہم واقعات میں شامل ہے ۔ اس کے علاوہ مخفیانہ طور سے جو ارتباط امام علیہ السلام سے برقرار کئے جاتے تھے اس کی وجہ سے حکومت نے اس باب ہدایت کو بند کرنے کے لئے چند پروگرام بنائے ۔ پہلے تو امام کو عسکر چھاؤنی میں فوجیوں کی حراست میں دے دیا ۔ دوسرے مہتدی عباسی نے اپنے استبدادی اور ظالمانہ نظام حکومت پر نظر ثانی کی اور گھٹن کے ماحول کو بہ نسبت آزاد فضا میں تبدیل کیا اور نام نہاد ، مقدس مآب ، زرخرید ملّا عبدالعزیز اموی کی دیوان مظالم کے نام سے ریا کاری پر مبنی ایک ایسی عدالت تشکیل دی جہاں ھفتے میں ایک دن عوام آکر حکومت کے کارندوں کے ظلم و ستم کی شکایت کرتے تھے ۔ لیکن اس ظاہری اور نام نہاد عدالت کا درحقیقت مسلمانوں پر کوئی اثر نہ ہوا بلکہ روز بروز امام حسن عسکری علیہ السلام کی طرف مسلمانوں کا حلقہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلاگیا اور چاروں طرف سے حریت پسند مسلمانوں کی تحریک سے بنی عباس کی حکومت کی بنیادیں ہلنے لگیں اور عوام کی سیل آسا تحریک سے بنی عباس کی حکومت کے زوال کے خوف سے بنی عباس نے عوام میں اپنی مقبولیت پیدا کرنے کے لئے پروگرام بنایا کہ پہلے تو مال و دولت کو عوام کے درمیان تقسیم کیا جائے تا کہ لوگوں کی سرکشی کم ہو اور عوام کو خرید کر ایسا ماحول بنادیا جائے کہ جس امام حسن عسکری علیہ السلام کو شہید کرنے میں آسانی ہو ۔ تاریخ شاہد ہے کہ تمام دنیا کے جابر وظالم حکمرانوں کا یہ دستور رہاہے کہ جب بھی ان کے استبداد کے خلاف کسی نے آواز اٹھائی تو انہوں نے اس بات کی کوشش کی کہ جلد سے جلد اس آواز کو خاموش کردیں اگرچہ شاید ان کو یہ معلوم نہیں کہ آنے والی نسل میں ان کے لئے سوائے رسوائی مذمت کے کچھ نہیں ہوگا اور ان کے مظالم کے خلاف آواز اٹھانے والوں کی دنیا نہ صرف یہ کہ حمایت کرے گی بلکہ ان بزرگون کو عظمت کی نگاہ سے دیکھی گی اور ان مظلوموں کی زندگی کے نقش قدم پر چل کر فخر کرے گی امام حسن عسکری (ع) نے بھی ہمیشہ اپنے اجداد کی طرح دین اسلام کی حفاظت اور پاسداری میں اپنی زندگی کے گرانقدر لمحات کو صرف کیا اور دین کی حمایت کرتے رہے اگرچہ دین کی حمایت اور عوام کی خدمت عباسی حکمرانوں کے لئے کبھی بھی خوش آئند نہیں رہی لیکن خداوند متعال نے اپنی آخری حجت اور دین اسلام کے ناصر حضرت امام مہدی (ع) کو امام حسن عسکری کے گھر میں بھیج کر واضح کردیا ہے کہ دین اسلام کے اصلی مالک و وارث اہل بیت رسول (‏ع) ہی ہیں ۔

Friday, March 20, 2009

انتظار کي فضيت اورمنتظر کا مقام


ہم اس وقت آپ(عجل اللہ فرجہ الشريف) انتظار ميں ہيں اور يہ انتظار حضرت مہدي عليہ السلام کي آمد اور ان کي حکومت حق کا ہے روايات ميں انتظار فرج کے بارے ميں کئي احاديث وارد ہوئي ہيں اور حضرت مہدي عليہ السلام کے منتظرين کا بہت مرتبہ بيان کياگياہے پيغمبر خدا صلي اللہ عليہ وآلہ کا ارشاد گرامي ہے “ميري امت کي بہترين عبادت انتظار فرج ہے اور امام صادق عليہ السلام نے ارشاد فرمايا: ہمارے امر (حکومت) کا منتظر اس شخص کي مانند ہے جو راہ خدا ميں اپنے خون ميں غلطان ہے۔
بےشک “انتظار ”وہ حقيقت ہے جس کے کچھ آثار اور لوازمات ہيں اور منتظر کي اپني کچھ ذمہ دارياں اوروظائف ہيں انتظار فرج کا مطلب ايک تابناک مستقبل کے لئے اميدوار ہونا ہے جو منتظر کي زندگي کو چار چاند اورنشاط بخشتاہے۔اور اسے مايوسي کي حالت اور نا اميدي سے خارج کرديتاہے۔ قائد انقلاب اسلامي آيۃ اللہ خامنہ اي نے فرمايا: موجود کيفيت پرراضي نہ ہونا اور نيک اعمال کي انجام دہي کے ذريعہ بھر پور جدو جہد کرنا انتظار کا ايک اہم پہلو ہے۔
اگر دنيا کو کسي خورشيد نے آکر نوراني کرنا ہے توآيا اس نوراني آفتاب کي آمد سے پہلے ہم تاريکي ميں بيٹھے رہيں؟ يا ضروري ہے کہ کوئي قدم اٹھائيں اور کوئي چراغ روشن کريں؟
لہذا جو شخص ظہور کا حقيقي منتظر ہے وہ ظہور امام کے لئے ضروري تياري بھي کرتاہے تاکہ ان کي آمد کا پيش خيمہ بن سکے۔
وہ خود سازي اخلاقي کي مدت اور معنويت و ايمان کي تقويت کے ذريعہ آنحضرت کي نصرت کے لئے خود کو تيار کرتاہے اور امر بالمعروف اور نہي المنکر کے ذريعہ ہميشہ ثقافتي انداز سے افراد کو تيار کرتا ہے۔ اوردوسروں کي تربيت کے لئے کوشاں رہتاہے۔
لہذا منتظر نہ تو اپني بابت بلا تکليف ہے اورنہ ہي اپنے ماحول کي بابت اپني ذمہ داريوں سے غافل ہے ايسا شخص ہميشہ اپنے امام کے اھداف کو آگے بڑھاتا ہے اور اپني توانائيوں کو اسي سمت خرچ کرتاہے لہذا يہ وہ فرد ہے جس کي حيثيت اورمقصد واضح ہے۔
البتہ اس کے بالمقابل دشمن ہميشہ اپنے اہداف تک رسائي کے لئے مايوسي اور نااميدي کي فضا قائم کرنا چاہتاہے اور اقوام کے درميان وہ ہر اس چيز سے بر سرپيکار ہوتاہے جو مؤمن کو اميد ديتي ہو۔ اورچونکہ امام مہدي عليہ السلام کا عقيدہ اور “انتظار فرج” اميدوار حرکت کے لئے بنيادي سبب ہے لہذا دشمن مختلف انداز سے اس کا مقابلہ کرتاہے کبھي وہ مہدويت کا انکار کرتاہے تو کبھي تحريف اورخرافات ايجاد کرتاہے تاکہ اس اہم اسلامي اورالہي عقيدہ کو خراب کرسکے۔
قائد انقلاب اسلامي آيۃ اللہ خامنہ اي اس بارے ميں فرماتے ہيں: “آج استکباري طاقتوں کے سياستدان اورمفکرين اس چيز کو اپنا اہم مقصد سمجھتے ہيں کہ اقوام عالم کے درميان مايوسي اور نا اميدي کي فضا ايجاد کريں اور ان کي کوشش ہے کہ اقوام کو يہ بات باور کرواديں کہ ان کي تہذيب٬ عقايد اور ان کي مذہبي و قومي حيثيت ان کے لئے کارساز نہيں ہے جبکہ اس کے مقابلے ميں انتظار فرج کا نظريہ آسودگي ٬ اميدواري اورتحرک کي دعوت ديتاہے۔ اور آنحضرت کي حرکت جس سمت بھي ہوگي ان کے پيروکاروں کي بھي اس سمت حرکت ہوني چاہئے۔
لہذا انتظار حضرت مہدي عليہ السلام کے نقش قدم پر چلنے کانام ہے اور منتظر وہ ہے جو ہميشہ ظلم و ستم اور ناانصافي کے خلاف سربکف ہے۔ اور اپنے آپ کو بے راہ روي سے دور رکھے ٬ کيونکہ وہ ايسے امام٬ کا منتظر ہے کہ جس کے قيام کي وجہ سے پوري دنيا کو عدل و انصاف ملے گا اور وہ اس جہان کو ہر قسم کے ظلم و ستم سے پاک کرديں گے۔

Thursday, February 26, 2009

تعصب اور تحریف


حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اھل سنت کے چہار موثق بزرگ علماء نے اپنی کتاب میں صحیح مسلم سے یہ حدیث نقل کی: المھدی حق وھو من ولد فاطمہ یعنی مہدی حق ہیں اور فاطمہ کی اولاد سے ہیںلیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ صحیح مسلم کے عصر حاضر کے نسخہ جات میں یہ حدیث موجود نہیں ہےوہ چار علماء مندرجہ ذیل ہیں :(۱)ابن حجر میثمی (متوفی ۹۷۴ ھجری) اپنی کتاب الصواعق المحرقہ کے گیارہویں باب اور ص نمبر ۱۶۲ پر نقل کرتے ہیں(۲)متقی ھندی حنفی (متوفی ۹۷۵ ھجری) اپنی کتاب کنز العمال کے چودھویں جلد اور صفحہ نمبر ۲۶۴ پر نقل کرتے ہیں۔(۳)شیخ محمد علی صبان (متوفی ۱۲۰۶ ھجری)اپنی کتاب اسعاف الراغبین کے صفحہ نمبر ۱۴۵ پر نقل کرتے ہیں(۴)شیخ حسن عدوی حمزاوی مالکی (متوفی ۱۳۰۳ھجری) اپنی کتاب مشارق الانوار کے صفحہ نمبر ۱۱۲ پر نقل کرتے ہیں

Wednesday, February 25, 2009

عاشورا اور انتظار


عاشورا ہمیں انقلاب کا درس دے رہی ہے
کہ ہم اپنے وجود میں اللہی انقلاب لاییں
یہ ہم میں ہر ایک کی شخصیت انقلاب اس عالمی انقلاب کا پیش خیمہ ہے
کہ جو امام زمانہ کی قیادت میں برپا ہوگا
یہ انقلاب کیا ہے؟ اللہ رسول اہلیبیت پر مستحکم ایمان اور
ایسا صالح عمل کہ جو صرف انکی مرضی کے مطابق ہو
کاش وہ وقت آجایے کہ ہم میں وہ حسینی مہدوی خوشبو
پیدا ہو اور ہم گلستان مہدی میںاسطرح اکھٹے ہوں جسطرح
کربل کے خونی باغ میں گل زہراء کے پاس بہتر پھول اکھٹے تھے

Tuesday, February 24, 2009

عقیدہ مہدویت تمام مذاہب میں



مہدویت یعنی ایک عالمی نجات دھندہ کا تصور اس وقت سے ہے جب کہ اسلام نہیں آیا تھا اوریہ تصور صرف اسلام میں محدود نہیں ہے ، ہاں اس کی تفصیلی علامتوں کی اسلام نے اس طرح حدبندی کی ہے کہ وہ ان آرزووں کو مکمل طور پر پورا کرتی ہے ، جو دینی تاریخ کی ابتداءہی سے عقیدہ مہدویت سے وابستہ کی گئی ہیں ، جوتاریخ کے مظلوموں اور دبے ہوئے انسانوں کے احساسات کو ابھارنے کے لئے ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام نے غیب پرایمان وعقیدے کو واقعیت میں بدل دیا ہے اوراسے مستقبل سے حال میں پہنچادیا ہے اور مستقبل بعید کے نجات دہندہ کو موجودہ نجات دہندہ پر ایمان میں بدل دیا ہے (بحوث حول المہدی ، ص ۳۱ باقر الصد (رح) تھوڑا لفظی رد وبدل کے ساتھ )۔
مختصر یہ کہ عقیدہ مہدویت سارے مذاہب وادیان اور ملتوں میں موجود ہے اوروہ ایسے ہی
طاقتورغیبی موعود کے انتظار میں زندگی بسر کرتے ہیں البتہ ہر مذہب والے اسے مخصوص نام سے پہچانتے ہیں ۔
مثال کے طور پر ہندوں کے مذہبی رہنما ” شاکونی“ کی کتاب سے نقل ہوا ہے کہ ” دنیا کا خاتمہ سید خلایق دو جہاں ” کِش “ [پیامبر اسلام ]ہوگا جس کے نام ستادہ [ موعود] خدا شناس ہے۔
اسی طرح ہندوں کی کتاب ” وید“ میں لکھا ہے ” جب دنیا خراب ہو جائے گی تو ایک بادشاہ جس کا نام ” منصور “ ہے آخری زمانے میں پیدا ہوگا اورعالم بشریت کا رہبر وپیشوا ہوگا۔اوریہ وہ ہستی ہے جو تمام دنیا والوں کو اپنے دین پر لائے گا۔
اورہندوں ہی کی ایک اور کتاب ” باسک “ میں لکھا ہے ” آخری زمانے میں دین ومذہب کی قیادت ایک عادل بادشاہ پر ختم ہوگی جو جن وانس اور فرشتوں کا پیشوا ہوگا، اسی طرح ” کتاب پاتیکل“ میں آیا ہے جب دنیا اپنے آخری زمان کو پہنچے تو یہ پرانی دنیا نئی دنیامیں تبدیل ہوجائے گی اوراس کے مالک دو پیشواوں ” ناموس آخرالزمان [ حضرت محمد مصطفی اور ” پشن[ علی بن ابی طالب ] کے فرزندہوں گے جس کا نام راہنما ہوگا۔(۔ستارگان درخشان ، ج۴۱، ص ۲۳۔)
اوریہی ہے جیسے زردتش مذہب میں اسے ” سوشیانس“ یعنی دنیا کو نجات دلانے والا ، یہودی اسے ” سرور میکائلی “ یا ” ماشع“ عیسائی اسے ” مسیح موعود“ اور مسلمان انہیں ” مہدی موعود(عج) “ کے نام سے پہچانتے ہیں لیکن ہر قوم یہ کہتی ہے کہ وہ غیبی مصلح ہم میں سے ہوگا۔
اسلام میں اس کی بھر پور طریقے سے شناخت موجود ہے ، جب کہ دیگر مذاہب نے اس کی کامل شناخت نہیں کرائی ۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ اس دنیا کو نجات دینے والے کی جو علامتیں اور مشخصات دیگر مذاہب میں بیان ہوئے ہیں وہ اسلام کے مہدی موعود(عج) یعنی امام حسن عسکری (علیہ السلام) کے فرزند پر منطبق ہوتے ہیں ۔
( آفتاب عدالت ، ابراہیم امینی ، مترجم نثار احمد خان زینپوری ، ص ۳۸ ، ۴۸۔)
مختصر یہ کہ ایک غیر معمولی عالمی نجات دہندہ کے ظہور کا عقیدہ تمام ادیان ومذاہب کا مشترکہ عقیدہ ہے جس کا سرچشمہ وحی ہے اورتمام انبیاء نے اس کی بشارت دی ہے ساری قومیں اس کی انتظار میں ہیں لیکن اس مطابقت میں اختلاف ہے

زمین کا وارث


ابو بصیر امام صادق علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں
تمام انبیاء کی ان پر آنے والی غیبتوں کے حوالے سے سنتیں ہمارے اہل بیت کے قائم کے حصے میں بھی اسی طرح ہوں گی۔
تو ابو بصیر کہتا ہے کہ میں نے عرض کیا: اے فرزند رسول خدا آپ اہل بیت میں کون قائم ہے؟
آپ(ع) نے فرمایا: میرے فرزند موسی کا پانچواں (نسل کے اعتبار سے) فرزند اور وہ کنیزوں کی سردار کا فرزند ہوگا اور لوگوں کی نظروں سے غائب ہوجائے گا، غیبت اس قدر طولانی ہوگی کہ اھل باطل شک و شبہ میں پڑ جائیں گے پھر اللہ تعالی اسے ظاھر کرے گا اور اس کے دست مبارک پر مشرق و مغرب فتح کرے گا اور حضرت عیسیٰ بن مریم آسمان سے نازل ہوں گے اور اس کی اقتدا میں نماز پڑھیں گے اور زمین اللہ تعالی کے نور سے منور ہوگی اور زمین پر کوئی ایسا گھر نہ ہوگا کہ جہاں غیر اللہ کی عبادت ہو صرف اللہ کی عبادت ہوگی اور تمام کا تمام دین اللہ کے لئے ہوگا اگرچہ مشرکین پسند نہ کریں

اسلامي ذرايع ابلاغ کي پاکستان ميں شيعہ مسلمانوں کے وحشتناک قتل عام پر عدم توجہ



شيعہ نيوز سا ئٹ کے مطابق غزہ کے مظلوم مسلمانوں پر صيھونستي يلغار ديگر عالمي ذرايع ابلاغ کي طرح ايران ميں اخبارات ،ريڈيو اور ٹي وي کي اہم ترين خبروں ميں شمار ہوتي ہے۔اور ہر لمحہ لمحہ کي خبر نشر ہو رہي ہے۔ليکن ہمسايہ اسلامي ملک پاکستان ميں کافي عرصہ سے خارجي صفت وحشي طالبان کے ہاتھوں شيعہ نسل کشي بالخصوص پاراچنار ميں شيعوں اور محبان اہل بيت کے بےرحمانہ اور وحشتناک قتل عام اور ان کے ہاتھ پاوں کاٹنے اور ذبح کرنے کے واقعات پر عالمي۔اسلامي ذرايع ابلاغ کا سرد رويّہ اور بالخصوص شيعہ اسلامي ملک ايران کا سکوت کيا معني رکھتا ہے؟ درحالانکہ پاکستان ،افغانستان اور عراق کے مظلوم شيعہ عظيم شيعہ ايران کے علاوہ کويي اور پشت پناہ نہيں رکھتے۔ايک طويل مدت کے محاصرے ميں گھرے ہويے۔فقر اور اقتصادي بحران،ہر لمحہ جان کے خوف ميں يہ عظيم باحوصلہ مسلمان ايران سے صرف يہ توقع تو رکھ سکتے ہپيں کہ اگر مملکت ايران انکي مادي معنوي مدد نہيں کرسکتي، پاکستاني گورمنٹ سے احتجاج نہيں کرسکتي تو کم از کم ميڈيا ميں ديگر مظلوم مسلمانوں کي مانند انکا بھي ذکر کيا جايے۔